شاہ غلام قادر نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مسلم کانفرنس سے کیا اور بعد ازاں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں میں شامل رہے، پارٹی کی تنظیم نو، سیاسی رابطوں اور آئندہ انتخابی تیاریوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ پارلیمانی سیاست کے ساتھ ساتھ شاہ غلام قادر نے عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کیا، انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کی، وادی کشمیر کے مہاجرینِ مقیم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی وہ کشمیر کاز کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں۔
شاہ غلام قادر کا سیاسی فلسفہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق، آئینی جمہوریت، پارلیمانی بالادستی اور ادارہ جاتی استحکام کے اصولوں پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت مختلف سیاسی حلقوں سے روابط اور کشمیری زبان پر عبور کے باعث بھی انہیں نمایاں سیاسی مقام حاصل ہے۔ سات مرتبہ انتخابی کامیابی، متعدد اہم وزارتوں اور دو مرتبہ اسپیکر کے منصب کا تجربہ رکھنے والے شاہ غلام قادر کی بطور وزیراعظم نامزدگی کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین کو حکومت کی قیادت سونپنے کے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مزید برآں سیاسی حلقوں کی طرف سے اسلام آباد کے ساتھ مضبوط روابط اور طویل پارلیمانی تجربہ نئی حکومت کے لیے اہم سیاسی عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔
