Input your search keywords and press Enter.

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرے، حریت کانفرنس

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ جاری بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ کالے قوانین کا استعمال اور ظالمانہ فوجی کارروائیاں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو دبا نہیں سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی زیرِ قیادت بھارتی حکومت کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور 5 اگست 2019ء کے بعد بھارتی مظالم میں مزید شدت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج، پیراملٹری فوسز اور پولیس کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور گھروں پر چھاپے ایک معمول بن چکے ہیں۔ حریت ترجمان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔

 

دریں اثناء مقبوضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس نے دفعہ370 اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے لئے سرینگر اور جموں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ بھارتی حکام نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کی تھی۔نیشنل کانفرنس کی رہنما اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ دفعہ370 اور 35اے کی بحالی تک جو ان کی جماعت کا بنیادی مقصد ہے، ہر دن احتجاج کا دن ہو گا۔ بھارتی حکام نے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، چھاپے، علاقے پر قبضہ مستحکم کرنے اور نگرانی کا عمل مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

 

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھارتی فورسز کو سائبر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ان احکامات سے کشمیریوں کو ہراساں کیے جانے، بلاجواز تلاشیوں اور پابندیوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ جموں میں قائم این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے سکول ٹیچر تنویر احمد ملک کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے جو بغیر کسی سزا کے پانچ سال سے زائد عرصے سے جیل میں نظربند ہیں۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *