سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام امام بارگاہ حضرت زہرا (س) یال کنزر ضلع بارہمولہ میں ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں جس میں حوزات علمیہ اور درجنوں دینی مکاتب میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے علاوہ عقیدت مندوں، دینی علماء، اساتذہ اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے ممتاز دینی علماء نے خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید اور تعلیمات اہل بیت (ع) کی روشنی میں تعلیم، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کی فکری، روحانی اور اخلاقی نشوونما کے لئے مضبوط تعلیمی بنیاد کا قیام ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لئے نوجوان نسل کو دینی علم، اخلاقی اقدار اور جدید سائنسی و پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آغا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ مکتب بچوں کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت کے بنیادی مراکز ہیں، اس لئے بدلتے ہوئے حالات اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق مکتب کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مکتبوں میں معیاری نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ اور جدید تدریسی طریقۂ کار متعارف کرانے پر زور دیا، تاکہ بچوں کو قرآن مجید، اسلامی عقائد، احکام دین، سیرت اور تعلیمات اہل بیت (ع) سے مستند آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کے حصول اور عملی و پیشہ ورانہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی جاسکے۔ جدید تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے آغا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ معاشرے کو ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دانوں، ٹیکنالوجی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہر پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے، تاہم پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مضبوط کردار، اخلاقی اقدار اور دینی شعور کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین، دینی علماء، اساتذہ اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ مکتبوں اور دینی تعلیمی اداروں کے فروغ کو اجتماعی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں کی دینی، تعلیمی اور اخلاقی تربیت سے متعلق اقدامات کو مستقل بنیادوں پر تعاون فراہم کریں۔
