سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جموں و کشمیر میں ’انڈیا الائنس‘ میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اعلان پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر ’راجیو بھون‘ جموں میں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے سیکریٹری و این ایس یو آئی کے سابق قومی صدر نیرج کندن، نیشنل کانفرنس کے ضلع صدر (جموں اربن) چندر موہن شرما، نیشنل کانفرنس کے ضلع صدر (جموں رورل) سبھاش چندر بھگت، اور پی ڈی پی کے جموں اربن صدر وریندر سنگھ سونو سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیرج کندن نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ نئی دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں منعقدہ انڈیا الائنس کے اجلاس کے تسلسل میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کے اندر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور مختلف ریاستوں میں لاکھوں ووٹرز کے نام یکطرفہ طور پر خارج کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برسرِ اقتدار جماعت نے انتخابی ادارے کے اعلیٰ حکام کو جوابدہی سے بچانے کے لیے قانونی ترامیم کا سہارا لیا ہے۔ نیرج کندن نے مزید کہا کہ جب اپوزیشن نے انتخابی فہرستوں میں ردوبدل پر دستاویزی اعتراضات اٹھائے تو ادارے نے اصلاح کے بجائے حلف نامے داخل کرنے اور تادیبی کارروائی کی دھمکیاں دیں، جبکہ ادارے کے اپنے نظام میں یہ شکایات مہینوں سے التوا کا شکار ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ اب روایتی سیاست سے آگے بڑھ کر شہریوں کے بنیادی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے رہنما چندر موہن شرما اور پی ڈی پی رہنما وریندر سنگھ سونو نے کہا کہ ان کی جماعتیں الائنس کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے سیاسی و سماجی تنظیموں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے اس احتجاج میں شامل ہوں۔ اتحادی قائدین نے باقاعدہ شیڈول جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر 2026 کو صبح 11:00 بجے ڈوگرا چوک اور امبیڈکر چوک جموں سے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا جائے گا، جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی شفاف نظرِ ثانی کے مطالبات کو دہرایا جائے گا۔
