سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمرفاروق نے کہاہے کہ اگلے جمعہ یعنی 16 اکتوبر کو مساجد، آستانوں، درگاہوں اور امام بارگاہوں میں پہلا مشترکہ خطبہ ”ایمان“ کے موضوع پر ہوگا، جو امتِ مسلمہ کے درمیان بنیادی مشترکہ رشتہ ہے۔
میرواعظ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ضلعی سطح کے عمل کو بعد میں دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی تاکہ مشترکہ جمعہ خطبات، ضلعی سطح کی سرگرمیوں اور عوامی بیداری کے ذریعے زمینی سطح پر عملی اقدامات کئے جاسکیں۔
میرواعظ نے کہاکہ علماءکا پہلا مشترکہ خطبہ اگلے جمعہ کو اورضلعی سطح کی سرگرمیوں کا آغاز بانڈی پورہ سے ہوگا۔گزشتہ ماہ 15ستمبر کومتحدہ مجلسِ علماءکی بین ریاستی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ علماءکی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لینے اور ان پر عملدرآمد کا طریقہ کار مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا اجلاس رواں ہفتے منعقد ہوااور ایک منظم فالو اَپ پروگرام پر غور کیا گیا۔
متحدہ مجلسِ علماءکی مذکورہ کانفرنس میں جن دیگر مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی ان میں اتحادِ امت، منشیات، خودکشی اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل، نوجوانوں کے چیلنجز، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، خاندانی مسائل اور ماحولیاتی ذمہ داری شامل ہیں، انہیں مربوط پروگرام کے تحت آئندہ جمعوں میں ایک ایک کر کے موضوع بنایا جائے گا۔ستمبر کی کانفرنس کے ایک اور اہم فیصلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ پہلا ضلعی سطح کا علماءاجلاس بانڈی پورہ میں منعقد ہوگا۔ اس یک روزہ اجتماع میں مقامی سطح پر لوگوں کو درپیش سماجی مسائل اور چیلنجز پر غور کیا جائے گا اور یہ دیکھا جائے گا کہ علماء، مساجد اور مدارس ان مسائل کے حل میں کس طرح مربوط اور عملی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میرواعظ نے بلند پایہ ولی کامل حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒکو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور کشمیریوں کی نسلوں کی روحانی، اخلاقی اور تہذیبی زندگی پر ان کے دائمی اثرات کو یاد کیا۔میرواعظ نے کہا کہ شیخ العالم ؒ نے کشمیری زبان کو نہ صرف مالا مال کیا بلکہ اس کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری زبان کا تحفظ دراصل ہماری شناخت، اجتماعی یادداشت اور تہذیبی ورثے کا تحفظ ہے۔ انہوں نے نئی نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی مادری زبان کو بولیں، پڑھیں اور اس کی قدر کریں۔
میرواعظ نے کہا کہ شیخ العالم ؒاسلام میں ایمان اور توحید کے تصورات کے علمبردار تھے اور ان کے کلام میں یہ افکار اور تصورات مقامی زبان میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہیں، جو ہماری منفرد اسلامی شناخت اور ورثے کا ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اسلامی افکار اور تصورات کو اپنے اندر مضبوط کرنا اور اپنی روزمرہ زندگی اور باہمی معاملات میں ان پر عمل کرنا ہی ہمارے اس بزرگ ولی کو بہترین خراجِ عقیدت ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ مسلک اور دینی تعبیرات کے اختلافات کے باوجود مسلمان اپنے بنیادی عقائد کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کی مضبوطی ہی فرد، خاندان اور معاشرے کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ایمان کی اس مشترکہ بنیاد کو تسلیم کیا جائے تو جائز دینی اختلافات کو زیادہ احترام، تحمل اور اختلاف کے اسلامی آداب کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ دشمنی یا تقسیم کا سبب بنیں۔
انہوں نے کہا کہ منبر و محراب ایک امانت ہے اور اسے ایمان کو مضبوط کرنے، مشترکہ رشتوں کو مستحکم بنانے اور ایمان سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس موقعے پر میرواعظ نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگلے جمعہ وہ حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒکے آستانہ عالیہ چرارِ شریف میں خطبہ دیں گے۔
