سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہائی کورٹ نے ایک کشمیری شہری کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظربندی کالعدم قرار دے دی ہے۔
عدالت نے نظربندی کی کارروائی شروع کرنے میں غیر واضح تاخیر اور متعلقہ حکام کی جانب سے شہری کو احتیاطی حراست میں رکھنے کے جواز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔جسٹس راجیش سیکری پر مشتمل بینچ نے ضلع مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے گلزار احمد بٹ کے خلاف 30 جنوری 2025 کو جاری کیا گیا نظربندی کا حکم منسوخ کرتے ہوئے اس حکم کے خلاف دائر درخواست منظور کر لی۔نظربندی سے متعلق ریکارڈ کے مطابق پولیس نے گلزار پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں تھا اور تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتا تھا۔تاہم عدالت نے کہا کہ ناکافی شواہد کی وجہ سے گلزار کو اس مقدمے میں گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا، جس کے بعد اسے ضمانتی مچلکے پر رہا کر دیا گیا۔
عدالت نے نظربندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ 10 جنوری 2024 کو پیش آیا تھا، لیکن نظربندی کی سفارش کرنے والے متعلقہ حکام نے یہ اقدام 21 جنوری 2025 کو تجویز کیا، یعنی واقعے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد۔ اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے 30 جنوری 2025 کو نظربندی کا حکم جاری کیا۔عدالت نے کہاکہ نظربندی کی سفارش کرنے میں تاخیر، حکم جاری کرنے میں لگنے والا وقت اور چار ماہ سے زائد عرصے تک اس حکم پر عمل درآمد نہ ہونا سنگین شکوک پیدا کرتا ہے کہ آیا حکام واقعی اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ گلزارکو احتیاطی حراست میں رکھنا ضروری ہے۔
