سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ “کاروبار میں آسانی” کے نئے قوانین، جن کے تحت زرعی اور باغبانی اراضی پر تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے، دراصل “ہماری سرزمین کے ساتھ ایک خطرناک دھوکہ” ہیں جو مستقبل میں بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ترقی کے نام پر جموں و کشمیر کے باغات اور زرعی زمین کو تجارتی نوعیت کی بلند و بالا عمارتوں کے لئے کھولا جا رہا ہے، حالانکہ ماہرین پہلے ہی زلزلے اور زمین دھنسنے کے تباہ کن خطرات سے خبردار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترقی نہیں ہے، بلکہ ہماری زمین، غذائی تحفظ اور عوام کی زندگیوں کے ساتھ ایک خطرناک کھلواڑ ہے، جب یہ لاپرواہ تجربہ کسی سانحے میں تبدیل ہو جائے گا تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔
اجازت ناموں اور این او سی کے اجراء کے عمل کو آسان بنانے والے یہ ترمیمی قوانین حال ہی میں سرینگر میں منعقدہ جموں و کشمیر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران منظور کئے گئے، جب یہ بل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جن کے پاس ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی وزارت کا قلمدان بھی ہے نے پیش کیا اور اس پر بحث ہوئی، تو ایوان میں اس کی برائے نام ہی مخالفت دیکھنے میں آئی تھی۔ تجارتی برادری اور تاجروں نے ان ترمیمی قواعد کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم سابق بیوروکریٹس اور اعلیٰ افسران پر مشتمل سول سوسائٹی کے حلقوں نے اس قانون کی بعض شقوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
پی ڈی پی کے رہنما اور پلوامہ سے رُکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے بھی حکومت کے نافذ کردہ ان نئے قوانین کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے کاروبار میں آسانی کا نام دے رہے ہیں، لیکن اس کا زمینی اثر دیکھئے، اب رہائشی بستیوں کے اندر دکانیں اور تجارتی سرگرمیاں شروع ہوسکتی ہیں۔ صرف ریڈ اور اورنج کیٹیگری کی صنعتوں اور چند بھاری سرگرمیوں جیسے گوداموں، مال برداری، نائٹ کلبوں اور شراب کی دکانوں کو روکا گیا ہے، جبکہ باقی ہر چیز آپ کے گھر کے بالکل برابر میں کھل سکتی ہے۔ وحید الرحمٰن پرہ کا کہنا تھا کہ اب 24 میٹر (تقریباً آٹھ منزلہ) اونچی اور 5,000 مربع میٹر رقبے پر محیط رہائشی عمارت کسی بھی ایف اے آر یا کوریج کی حد کے بغیر تعمیر کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لئے صرف حکومت سے منظور شدہ کنسلٹنٹ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوگی۔ اسی رقبے پر مشتمل شاپنگ مالز کسی بھی پیشگی حکومتی منظوری کے بغیر تعمیر ہوسکتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ کشمیر کے لئے اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، ہم نے 2014ء کے سیلاب کی تباہ کاریوں کو جھیلا ہے، ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جب نکاسی آب کے راستے بند ہو جائیں اور دلدلی زمینوں و سیلابی گزرگاہوں پر کنکریٹ بچھا دیا جائے تو کیا انجام ہوتا ہے۔ یہ قوانین اس خطرے کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں اور پورے محلوں، ہمارے قدرتی ماحول اور سیلاب سے بچاؤ کے نظام کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
وحید الرحمن پرہ نے سوال اٹھایا کہ جب ایک پرسکون رہائشی گلی راتوں رات کمرشل بلاک میں تبدیل ہو جائے گی تو اس کا جوابدہ کون ہوگا اور جو شخص سرٹیفکیٹ پر دستخط کر رہا ہے اس کی جانچ کون کرے گا، صرف ایک دستخط شدہ کاغذ نگرانی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ وحید الرحمٰن پرہ نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری خوش آئند ہے لیکن یہ شہریوں کے گھروں اور ان کے تحفظ کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ شہری منصوبہ بندی کے قواعد ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں، اگر آپ ان قوانین کو ہی ختم کر دیں گے، تو اگلی بار جب پانی کی سطح بڑھے گی تو اس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔
