سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کو آج پورا ایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے جو ایک غیر معمولی فوجی مہم کے باوجود کسی کامیابی کے بغیر اپنے 30ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہزاروں فوجی،ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، سراغ رساں کتوں، پیرا کمانڈوز اور ویلج ڈیفنس گارڈز کے اہلکاروں کی مدد سے 23 مئی سے گمبھیر موگلہ اورڈوریمل کے جنگلات میں مسلسل آپریشن کر رہے ہیں تاہم پورا ایک ماہ گزرنے کے باوجود فورسز کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔بھارتی فوج کے سینئر افسران نے بھی آپریشن کا جائزہ لینے اور زمین پر موجود فوجیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے علاقے کا دورہ کیا۔گزشتہ ایک ماہ میں فوجی محاصرے کے دوران سینکڑوں مقامی باشندوں کو جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، بھارتی فورسز نے شدید تشددکا نشانہ بنایا اور ان سے پوچھ گچھ کی۔فورسز نے جنگلاتی علاقے کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے اور آس پاس کے علاقوں میں گھر گھر تلاشی کاسلسلہ تیز کر دیا ہے جس سے پورا علاقہ میدان جنگ کا منظرپیش کررہا ہے۔بار بار چھاپوں اور فوجیوں کی نقل و حرکت نے علاقے میں معمولات زندگی کو مکمل طور پر درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے اورلوگوں کومسلسل خوف ودہشت، بے یقینی اور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طویل اور بے نتیجہ فوجی آپریشن سے ایک بار پھرثابت ہوا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی مزاحمت کو دبا نہیں سکتا اوروہ کشمیری عوام کی جائز سیاسی امنگوں کو کچلنے کے لیے طاقت کے وحشیانہ استعمال اور ظلم وجبر پر انحصارکررہا ہے۔
