Input your search keywords and press Enter.

بھارت 1947سے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ایک نوآبادیاتی جیسا سلوک کر رہاہے ،حریت کانفرنس

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت 27 اکتوبر 1947سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنی کالونی سمجھتا آرہا ہے۔ اس روز بھارت نے اپنی فوج سرینگر میں اتارپورے علاقے پر غیر قانونی طورپر قبضہ کرلیا تھا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اب کشمیریوں کی آواز خاموش کرنے کے لیے ظلم و تشدد اور کالے قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے گھروں پر چھاپوں کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے بجائے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے۔

حریت ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو اپنی مرضی کے اظہار کا حق دینے کیلئے نئی دہلی پر دبا ئوڈالے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کونوآبادیاتی بنانے کا خواب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بی جے پی طویل عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، غیر کشمیری ہندوئوں کو انتخابی فہرستوں میں شامل کرنا مقبوضہ علاقے میں ہندوتوا حکومت کے خطرناک منصوبے کو آگے بڑھانے کا ایک اور قدم ہے۔

کولونیل ڈائری کے مطابق5اگست 2019کے بعد بھارتی حکومت نے متعدد نئے قوانین متعارف کرائے اور کئی قوانین میں ترامیم کیں۔ اس کے ذریعے غیر کشمیریوں، خصوصا ہندوئوں، کو ڈومیسائل اور زمین کی ملکیت کے حقوق دینے کی راہ ہموار کی گئی۔حریت ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *