سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (بغداد) : اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں پاکستان کے مستقل نمائندے سید محمد فواد شیر نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر او آئی سی کو سراہا ہے۔
سید محمد فواد شیر نے عراق کے شہر بغداد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس سے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کی نمائندگی کرتے ہوئے خطاب کیا۔
اجلاس میں 70 سے زائد قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں متعدد رکن ممالک کی صورتحال، جموں و کشمیر اور فلسطین کے تنازعات، مسلم اقلیتوں اور برادریوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا کے خاتمے سمیت مختلف سیاسی امور پر توجہ دی گئی۔
سید محمد فواد شیر نے کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی مسلسل نسل کشی پر اسرائیل کی شدید مذمت کی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس، میں اسرائیلی جارحیت میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر، القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک محفوظ، قابلِ عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
فواد شیر نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت اور امن، سلامتی اور ترقی کے مشترکہ چیلنجوں پر قابو پانے میں او آئی سی کے کردار پر زور دیا۔
انہوں نے حوثی حملوں کے خلاف مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور یمن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا یقین دلایا۔
فواد شیر نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد ممکن ہوا۔
اجلاس کے اختتام پر ’’بغداد اعلامیہ‘‘ بھی منظور کیا گیا، جس میں فلسطین، جموں و کشمیر، اسلاموفوبیا، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دیگر عصری امور سمیت امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر رکن ممالک کے متفقہ مؤقف کی عکاسی کی گئی۔
