سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بھارت بھر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی بسوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان واقعات صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بسوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا بیان بھارتی ریاستوں میں کشمیر جانے والی بسوں پر حملوں کے حالیہ دو واقعات کے بعد سامنے آیاہے۔
پیر کے روز بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ اورریاست ہریانہ میں سرینگر جانے والی مسافر بسوں پر پتھرائو کیا گیاتھا۔ حملوں کے نتیجے میں بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایک بس ڈرائیور اشفاق احمد نے میڈیاکوبتایا کہ چلتی بس پر چار مختلف مقامات پر پتھرائو کیا گیا۔ جس سے سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت مسافر خوفزدہ ہوگئے۔اشفاق احمد نے کشمیر جانے والے مسافروں کی سلامتی پر تشویش ظاہر کی۔
فاروق عبداللہ نے کہا، ایسے شرپسند عناصر موجود ہیں جو بھارت میں طوفان برپا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ بسوں پرمزید حملے روکیں اور متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کریں۔
دوسری بس کے ڈرائیور وقار چوہدری نے بتایاکہ ایک شخص نے انہیں دہشت گرد قراردیتے ہوئے اپنی بس ہٹانے کا کہا ،انکے انکار کے بعد اس نے بس کا شیشہ توڑ دیا اور نمبر پلیٹ سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی ۔اس کے بعد اس نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا ۔کچھ ہی دیر میں موٹر سائیکلوں پر سوار کئی افراد وہاں پہنچے اور انہوں نے بس میں توڑ پھوڑ کی۔ وقار چوہدری نے کہاکہ بھارت میں لوگ ہمیں صرف کشمیری ہونے کی وجہ سے دہشت گرد کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی ہماری بات نہیں سنتا اور ہمیں انصاف نہیں ملتا۔ہریانہ کے واقعے کے بعد سرینگر کے ایک مسافر عبداللہ نے بھی پولیس بدسلوکی کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ ڈرائیوروں اور مسافروں نے ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور انہیںتحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
