سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (مظفرآباد) : جموں و کشمیر لبریشن الائنس نے حافظ ضیاءمصطفیٰ شہید کوان کے یومِ شہادت پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زندگی ، استقامت اور قربانی تاریخِ کشمیر کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔
ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میرنے ایک بیان میں کہاکہ 18سال تک بھارتی جیلوں میں صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود ان کا عزم و حوصلہ برقرار رہنا ثابت قدمی کی روشن مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ ضیاءمصطفیٰ نے اپنی زندگی کے قیمتی سال بھارتی جیلوں میں گزارے، لیکن طویل اسیری بھی ان کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کر سکی۔ 24 اکتوبر 2021ءکو ضلع پونچھ کے علاقے سرنکوٹ میں ان کی شہادت نے کشمیری عوام کو سوگوار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے تمام پہلوو¿ں کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
ترجمان نے کہا کہ حافظ ضیاءمصطفی کی شہادت ماورائے عدالت قتل کا سنگین جرم ہے۔ اگر کسی شخص پر الزامات عائد ہوں تو اسے شفاف قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے، لیکن قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی کی جان لینا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے خون کو بے وقعت سمجھنے اور طاقت کے ذریعے آواز دبانے کا رویہ ہندوتوا کی انتقامی سیاست اور انسانی جان کے احترام کے منافی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے واقعات انصاف کے نظام اور انسانی حقوق کے عالمی دعوو¿ں پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
سجاد میر نے کہا کہ شہدائے جموں کشمیر کی انمول قربانیاں کشمیری عوام کی تاریخ ، اجتماعی شعور اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیوں کو طاقت ، جبر اور انتقامی کارروائیوں کے ذریعے فراموش نہیں کرایا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق و انصاف کے لیے دی جانے والی قربانیاں نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حافظ ضیاءمصطفیٰ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ کشمیری عوام کے انسانی وقار اور بنیادی حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کی جائے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو بھی ایسے واقعات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
