سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (نئی دلی) :بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی ایجنسی (این آئی اے )کی نئی دہلی میں قائم خصوصی ا عدالت نے معروف کشمیری آزادی پسند رہنما اور لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمدیاسین ملک سمیت چھ دیگر افراد کے خلاف ایک پرانے جھوٹے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
این آئی اے نے یاسین ملک اور دیگر کے خلاف یہ مقدمہ 2017میں درج کیا تھا ۔ مقدمہ مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں یاسین ملک کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ، نظر بند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ، نظربند کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی، عبدالرشید شیخ اور نول کشور کپور شامل ہیں۔
ان پر انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعات 120B، 121 اور 121Aاور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون ”یو اے پی اے“ کی دفعات 13، 16، 17، 18، 20، 38، 39 اور 40 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
”این آئی اے “ کے خصوصی جج پرشانت شرما نے ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ سماعت بند کمرہ عدالت میں ہوئی ۔استغاثہ کی جانب سے شواہد قلمبند کرنے کا عمل 19 نومبر سے شروع ہوگا۔ یاسین ملک نے تہاڑ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیے گئے اور الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقدمے کا سامنا کریں گے۔عدالت نے مقدمہ کے حوالے سے فرد جرم گزشتہ ماہ ستمبر میں عدالت میں داخل کی تھی۔
