Input your search keywords and press Enter.

راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کا ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے خلاف آپریشن، دو طرفہ فائرنگ اور جانی نقصان کے دعوے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (شہزاد ملک، اسلام آباد) :پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں میں جمعرات کی علی الصبح ہونے والی مبینہ مسلح جھڑپ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے شہر میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

 

مقامی صحافیوں کے مطابق بس ٹرمینل سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد سے شہر میں صورتحال کشیدہ ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ بس ٹرمینل کا علاقہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں ہے تاہم راولا کوٹ کے ڈی چوک میں چند مظاہرین موجود ہیں۔

 

پونچھ ڈویژن کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ راولا کوٹ کے بس ٹرمینل پر جمعرات کی صبح مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کی جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن کی تفصیلات جلد پیش کی جائیں گی۔

 

جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان جھڑپوں میں تین افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ میتوں کے ہمراہ راولا کوٹ کے ڈی چوک میں احتجاج پر موجود ہیں۔

اگرچہ سرکاری حکام نے جمعرات کی صبح ہونے والے آپریشن میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم پونچھ ڈویژن کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں مظاہرین میں موجود چند ’مسلح شرپسند‘ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

ڈپٹی انسپیکٹر جنرل پولیس (پونچھ ریجن) کے آفس سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ راولاکوٹ بس ٹرمینل کے قریب ’عوامی راستوں پر قائم غیر قانونی رکاوٹوں کو ہٹانے اور شہریوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضروری اقدامات کیے جن کے دوران مظاہرین میں شامل مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔‘ 

دوسری جانب کالعدم جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے راولا کوٹ بس ٹرمینل کو مظاہرین سے خالی کروانے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا اور کارکنوں پر مبینہ طور پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *