Input your search keywords and press Enter.

صدرآصف علی زرداری کی طرف سے یوم شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (اسلام آباد) :صدرمملکت آصف علی زرداری نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ اور شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر ثابت قدمی سے کاربند ہے اور اپنے کشمیری بہن ،بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے یوم شہدائے جموں کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یوم شہدائے جموں کے موقع پر نومبر 1947 میں جموں میں شہید کیے گئے بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ 79سال قبل آج ہی کے دن ڈوگرہ راج کی افواج نے انتہا پسند مسلح جتھوں کی مدد سے جموں کی مسلم آبادی کے خلاف منظم انداز میں تشدد کی کارروائیاں کیں۔ ہزاروں مرد، خواتین اور بچوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ لاتعداد افراد کو اپنے گھروں اور آبائی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان مظالم نے جموں کی آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا اور ایسے زخم چھوڑے جو نسل در نسل آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ 6 نومبر 1947 کا سانحہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔کشمیری عوام کی مشکلات صرف ماضی تک محدود نہیں ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹس میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں غیر قانونی گرفتاریوں، پرامن اختلاف رائے پر پابندیوں، سزا کے طور پر گھروں کو مسمار کرنے اور میڈیا پر قدغن کے واقعات کی دستاویزی طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی تشدد، زیر حراست ہلاکتوں اور اجتماعی سزائوں سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور پرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے وسیع تر سخت گیر سکیورٹی قوانین کا استعمال عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔

انہوںنے ہندو انتہا پسندتنظیموں کی جانب سے مسلمانوں، دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور پاکستان کے خلاف مخاصمت کو ہوا دینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ صدر مملکت نے کہا کہ بالخصوص مئی 2025 میں بھارت کو ذلت آمیز فوجی ہزیمت کے بعد اس قسم کا بیانیہ ملک کے اندر ظلم و جبر اور باہر کی دنیا میں خطرناک مہم جوئی کو ہوا دے سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شہدائے جموں کی یاد ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ ہم نفرت کے خلاف مزاحمت کریں، انسانی وقار کا دفاع کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی قوم کو تشدد، امتیازی سلوک یا خوف کے ذریعے اس کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ بھارت کو اشتعال انگیز بیانات اور فوجی مہم جوئی سے گریز کرنا چاہیے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک ہیں اور ایک اور تصادم ان کے عوام اور وسیع تر خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گا ۔پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ہمارے عزم کو کبھی بھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔اپریل 2025 کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بہانے گزشتہ سال مئی میں بھارت کی جانب سے شروع کردہ مسلح تصادم ذمہ دارانہ طرز عمل اور مسلسل سفارت کاری کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل ناگزیر ہے۔ فوجی طاقت اور جبر سیاسی تصفیے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے کشمیری عوام کے حقوق کو مزید مجروح کیا ہے۔

بھارت ان اقدامات کو منسوخ کرے اور ایسے حالات پیدا کرے جن میں کشمیری عوام اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا استعمال کر سکیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر ثابت قدمی سے کاربند ہے اور اس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے ۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کے دن ہم شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان تمام کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں جو آج بھی مصائب اور اپنے پیاروں سے جدائی کا صدمہ برداشت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالی شہدائے جموں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور جموں و کشمیر کے عوام کو آزادی، امن اور خوشحالی نصیب فرمائے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *