سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر): غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے بونہ گام رہمو میں پیر کی صبح ایک دینی مدرسے میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس سے تین منزلہ عمارت جل کر خاکستر ہو گئی۔
مدرسے میں آگ صبح سویرے نمودارہوئی جس سے عمارت مکمل طورپر تباہ ہوگئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ املاک کے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔مقامی لوگوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آتشزدگی کو مودی حکومت کی جاری اسلام دشمن مہم سے جوڑتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد مسلمان اداروں کو معاشی طور پر کمزورکرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام اکثر مدارس کے منتظمین سے تعمیر نو کے فنڈز کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے ہیں اور ایسے اداروں کی تعمیر نو کو روکنے کے لیے جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔مقامی لوگوں نے کہا کہ آتشزدگی کے تازہ ترین واقعات ایک پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ حال ہی میں پراسرار حالات میں آگ لگنے سے متعدد مدارس کو نقصان پہنچا ہے۔ جن میں دارالعلوم پرے پورہ پلوامہ، اسلامی مدرسہ بونیار بارہمولہ، جامعہ سراج العلوم امام صاحب شوپیاں اور مدرسہ سل سبیل السلیم سرینگر شامل ہیں۔ ان مسلسل واقعات پرمقامی لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اوروہ ان کو بی جے پی-آر ایس ایس حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں اسلامی تعلیم اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کی ایک منظم سازش سمجھتے ہیں۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ہندوتوا حکومت پالیسی کے تحت پہلے مدرسوں کی املاک کو نذرآتش کرکے پھر پوچھ گچھ اور افسر شاہی کے ذریعے ان کی تعمیر نو میں رکاوٹ ڈال کرانہیں مالی طوپر کمزورکرنا چاہتی ہے۔
