Input your search keywords and press Enter.

عالمی مفادات کی زد میں مسئلہ کشمیر تحریر: شیخ عبدالماجد

دنیا کی تاریخ میں کچھ خطے ایسے بھی ہیں جو محض جغرافیہ نہیں بلکہ ضمیرِ انسانیت کا امتحان بن چکے ہیں۔ خطۂ جموں و کشمیر انہی میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا خطہ جس کے در و دیوار پر قربانی، استقامت اور آزادی کی طویل داستانیں رقم ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947ء میں جب پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستوں کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے تو برطانوی ہند کی 562 ریاستوں کو جغرافیائی، مذہبی اور عوامی وابستگی کے مطابق الحاق کا حق دیا گیا۔ کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی مگر مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس بھارت سے الحاق کا اعلان کیا۔ اس غیر فطری فیصلے نے نہ صرف خطے کے امن کو چکنا چور کیا بلکہ ایک ایسے تنازعے کو جنم دیا جو تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی اقوامِ عالم کے ایجنڈے پر ایک نامکمل وعدہ بن کر موجود ہے۔ یہ غیر منطقی اعلانِ الحاق دراصل کشمیر کی جغرافیا، شناخت، ثقافت، تہذیب و تمدن اور کشمیریت کا وجود مٹانے کا منصوبہ تھا۔

پاکستان کے دو ٹوک مؤقف کے بعد اقوامِ متحدہ نے 1948ء میں اپنی قرارداد کے ذریعے واضح طور پر کہا کہ کشمیر کا فیصلہ آزادانہ استصوابِ رائے سے کشمیری عوام خود کریں گے۔ بھارتی وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے بھی 27 اکتوبر 1947ء کو اقوامِ متحدہ میں تحریری یقین دہانی کرائی کہ “کشمیری عوام کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں”۔ مگر وقت کے ساتھ بھارت نے اپنے ہی وعدوں سے انحراف کیا اور کشمیر کو آئینی جواز کے طور ضم کرنے کی راہ اختیار کرکے کشمیریوں کو غلامی کی زنجیروں کو مضبوط کرتا گیا۔

سرد جنگ کے دور میں یہ مسئلہ عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک بساط بن گیا۔ امریکہ نے اسے پاکستان کے ساتھ اپنے فوجی اتحادوں،
Southeast Asia Treaty Organization (SEATO) اور Central Treaty Organization (CENTO)
کے تناظر میں دیکھا جبکہ سوویت یونین نے بھارت کو خطے میں اپنا اتحادی سمجھتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ یوں دونوں طاقتوں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے لئے جمود میں رکھا۔ بھارت کو سوویت حمایت ملتی رہی اور پاکستان مغرب کا اتحادی بنا رہا مگر کسی نے بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو عملی طور پر تسلیم نہیں کیا بلکہ ویٹو کے ہتھیار سے سچ کو دبایا جاتا رہا۔

وقت کے تھپیڑوں سے کشمیر ایک انسانی المیے میں بدل گیا۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 1990ء کے بعد سے ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کردئیے گئے ہیں، ہزاروں جبری طور پر لاپتہ ہیں اور خواتین کی عصمت دری کو ریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ زمینوں پر جبری قبضے، کاروباری بندشوں، بےروزگاری، اور مسلسل وحشت و دہشت کے باعث ہر چوتھا کشمیری ذہنی مرض کا شکار ہوچکا ہے۔

2019ء میں بھارت نے جب آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرکے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کی تو اس نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو عملاً پامال کردیا۔ لیکن عالمی برادریںامریکہ، یورپی یونین اور خلیجی ممالک سمیت محض رسمی تشویش تک محدود رہی۔ اس پر اسرار خاموشی نے ثابت کردیا کہ کشمیر کا مسئلہ انسانی نہیں بلکہ مفاداتی مسئلہ بن چکا ہے۔

عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں امن کے بجائے توازنِ طاقت برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔ اگر کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہوجائے تو پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی جو بھارت کے مقابلے میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے منجمد رکھنا چاہتی ہیں۔ اس منجمد کیفیت سے وہ اپنی عسکری، سفارتی اور تجارتی اہمیت برقرار رکھ سکتی ہیں۔ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے سے امریکہ اور مغربی ممالک کو اسلحے کی فروخت سے خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے جبکہ چین، روس اور دیگر طاقتیں اسے اپنی اسٹریٹجک موجودگی کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی اداروں کا انسانی حقوق کے حوالے سے رویہ دوہرا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی درجنوں رپورٹس میں بھارتی افواج کے مظالم کی تفصیلات درج ہیں مگر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین میں سے کوئی بھی ملک بھارت کے خلاف عملی قرارداد پاس کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ وجہ صاف ہے، بھارت ایک بڑی منڈی، ٹیکنالوجی اور عسکری شراکت دار کے طور پر عالمی طاقتوں کے مفادات میں جکڑا ہوا ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ ہوتا گیا اور آج کشمیر میں قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ہر گلی کوچہ، بہتی ندیاں، دریا اور وادیاں ظلم و جبر کی کہانیاں سناتی ہے لیکن دنیا پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دنیا کے ایوانوں میں شور صرف وہاں اٹھتا ہے جہاں ان کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر دھول جم چکی ہے، عالمی عدالتِ انصاف کی فائلیں زنگ آلود ہیں لیکن مسئلہ کشمیر آج بھی بین الاقوامی ضمیر کے لئے ایک چیلنج ہے، ایک ایسا آئینہ جو دکھاتا ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار دراصل طاقت اور مفادات کے غلام ہیں۔ جب تک عالمی طاقتیں اپنے تجارتی و عسکری مفادات کو انسانی انصاف پر فوقیت دیتی رہیں گی کشمیر جیسے خطے جمود کا شکار رہیں گے۔
تاہم اس عالمی بے حسی کے باوجود کشمیری مایوس نہیں۔ ان کی قربانیاں وقت کے دھارے میں وہ سچ رقم کررہی ہیں جو ایک دن دنیا کے ضمیر کو ضرور بیدار کرے گا۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری قیادت کو عالمی اور علاقائی تناظر کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *