سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ضلع پلوامہ میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہیڈکوراٹر کی تعمیر کیلئے کشمیریوں کی زرخیز زمینوں پر بھارتی فوج کے قبضے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے پلوامہ کے علاقے پوچل کا دورہ کیا اور متاثرہ کشمیریوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ علاقے کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور لوگوں کا واحد ذریعہ معاش زراعت اور باغبانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ گزشتہ کئی برسوں سے اس زمین پر کاشت کاری کرتے آ رہے ہیں اور یہی ان کا واحد ذریعہ معاش ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سیب اور بادام کے بہت سے درخت ہیں اور ہزاروں کشمیری خاندانوں سے ان کا ذریعہ معاش چھینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے وسط میں بھارتی فورسز کے ہیڈکوارٹر کی تعمیر کیلئے زرعی اراضی مختص کرنا انتہائی نامناسب ہے۔
محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کی طرف سے کشمیر اسمبلی میں پیش کئے گئے اراضی کے تحفظ کے بل کا بھی حوالہ دیا جسے حکومت نے مسترد کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد کشمیریوں کی زمینوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو بھارتی وزیر دفاع کے ساتھ بھی اٹھائیں گی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی بے روزگاری عروج پر ہے اور اگر کشمیری کاشت کاروں کو ان کی زرعی زمینوں سے مسلسل محروم کیا جاتا رہا تو بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر حکومت کو قابض فورسز کے لیے زمین درکار ہے تو وہ متبادل اور غیر زرعی اراضی کی نشاندہی کرے، لیکن زرخیز زمین کو محفوظ رکھا جائے۔ مقامی کاشت کاروں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پوچل اور لاجورا کے کیریواس میں باغبانی کی زمین بی ایس ایف کیلئے زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین کے حصول سے درجنوں خاندانوں کی روزی روٹی چھن جائے گی۔
