Input your search keywords and press Enter.

جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت پر مودی حکومت کا دہرا معیار قبول نہیں ہے، عمر عبداللہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ دہلی اور کشمیر دونوں میں ایک ہی سیاسی مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں مرکز کی جانب سے تعاون ملا ہے، وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں اور جہاں کمی رہی ہے، خصوصاً ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر، وہاں وہ کھل کر اپنی بات رکھتے ہیں۔ سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مختلف مقامات پر مختلف موقف اختیار کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات ہمیشہ یکساں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے ملنے والی مدد اور کوتاہیوں دونوں کو کھل کر اجاگر کرتے ہیں اور بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ ریاستی حیثیت کا مطالبہ تاحال پورا نہیں ہوا۔

ادھر عمر عبداللہ نے کہا کہ متوقع برف باری سے نمٹنے کے لئے کشمیر اور جموں دونوں ڈویژنوں میں تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود ان علاقوں میں انتظامات کا جائزہ لیا ہے جہاں برف باری کا امکان ہے، جن میں وادی کے تمام اضلاع اور جموں کے پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیاریوں کی مؤثریت برف باری شروع ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی اور عوام سے اپیل کی کہ اگر مشکلات پیش آئیں تو شکایت نہ کریں، کیونکہ برف باری کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ سلسلہ آلودگی میں کمی لائے گا اور سرمائی سیاحت کے سیزن کا آغاز ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ نے ضلعی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی، جس میں برف ہٹانے، بجلی کی فراہمی اور بنیادی خدمات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برف باری سے فضائی آلودگی میں بہتری آئے گی اور وادی میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *