سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے عہدیداران اور اراکین کا ایک اہم اجلاس اوقاف صدر دفتر میں میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ماہِ مبارک کے دوران انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نمازیوں اور زائرین، بالخصوص دور دراز علاقوں سے آنے والوں کے لئے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ نمازِ تراویح کے لئے خصوصی انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اور ماہر و خوش الحان قاری القرآن کی امامت میں قرآنِ مجید کی قرآت اور تلاوت کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ عبادت گزاروں کے لئے رمضان روحانی طور پر بابرکت اور پُرسکون ہو۔
اس موقعہ پر میرواعظ محمد عمر فاروق نے ماہ رمضان کے متبرک مہینے میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے، یہ تقوی اور اپنے نفس پر قابو پانے کا ایک ایسا مہینہ ہے جس سے ہم سب اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق جوڑنے کے ساتھ ساتھ اصلاح اور پرہیز گاری کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں اس بابرکت ماہ میں ائمہ مساجد، خطیب اور علماء کرام کی جانب سے اسلامی تعلیمات کے علاوہ سماجی معاملات کو ابھارنے اور معاشرے کی صلاح کی خاطر بھی پیغامات پہنچانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب دینی مرکزی خاص کر جامع مسجد میں بنا کسی خلل یا پابندی کے عبادت و ریاضت کے لئے کھلا رکھا جائے، اگرچہ گزشتہ برس ماہ صیام کے مہینے میں مرکزی جامع مسجد کو کئی بار بند کیا گیا تاہم اس مرتبہ امید ہے کہ اس روایت کو دوہرایا نہیں جائے گا اور جامع مسجد میں نماز پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ گزشتہ برسوں سے جامع میں پابندی کے باعث شب قدر اور نہ ہی نماز عید کا اجتماع ہو پائے ہیں لیکن ہمیں توقع ہے کہ حکومت عبادت کے معاملے میں امسال کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ مذہبی آزادی کے حقوق کو ملحوظ رکھ کر مسلمانوں نہ صرف کو تحفظ فراہم کیا جائے گا بلکہ حکومت بہتر سہولیت کی دستیابی کو ممکن بنانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔
میرواعظ نے کہا کہ صیام کی آمد ایسے وقت میں ہو رہی جب پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کا سلوک رواں ہے، خاص کر فلسطین میں ظلم و بربریت جاری ہے اور ایران کے حالات بھی دیگر گو ہیں۔ دوسری جانب ہمارے ملک میں بھی شرپسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مساجد کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا جارہا ہے، ایسے واقعات بھی حالات کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس پر ہمیں بات کرنی چاہیئے، ہمیں ان مظلوم کی آواز بننا ہوگی جو کہ اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں توقع رکھتا ہوں کہ مجھے اپنی منصبی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری کو بھی پورا کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اس حکومت کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔
