سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب برسرعام اتارنے کی مذموم حرکت کیخلاف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ، ڈوڈہ اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق مظاہروں میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف شدید نعرے لگائے اور انہیں فوری طور پر وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں وزیراعلیٰ کے مذموم فعل کے خلاف نعرے درج تھے۔کشواڑ میں مظاہرین سے جامع مسجد کے امام فاروق احمد کچلو نے خطاب کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کی اس گھناﺅنی حرکت کو اخلاق اور انسانی وقار کے سراسر منافی قرار دیا۔ مولانا فاروق احمد کچلو نے خاتون ڈاکٹر کے حوصلے اور جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی عہدوں پر فائز اشخاص کو اپنی زبان اور عمل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، ایسی نازیبا حرکات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور انتشار کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیش کمار اپنے شرمناک فعل پر فوری طور پر معافی مانگیں۔ بعد ازاں مظاہروں کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
وزیراعلیٰ بہار کے شرمناک فعل کیخلاف کشتوار، دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے
