Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی سے کشمیری نوجوانوں کی مایوسی میں اضافہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے گروپوں نے مقبوضہ علاقے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور سیاسی رہنمائوں پر کشمیری نوجوانوں کے مسائل کے فوری حل پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بجلی کے بلوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کو کئی مہینوں سے معاوضوں کی ادائیگیاں نہیں کی جا رہی ہیں جبکہ کشمیری نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ 2024ء کے اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں تبدیلی کی امید کے ساتھ ووٹ ڈالے تھے، تاہم ان میں بے چینی اور مایوسی اب بھی برقرار ہے۔2023ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کے 20 سے 29 سال کے نوجوانوں میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ بے روزگار ہیں۔ انجینئرنگ کے گریجویٹس ڈرائیور یا ڈلیوری ورکر بننے پر مجبور ہیں، جبکہ پوسٹ گریجویٹس نوجوان حکومت کی نوکریوں کے منتظر ہیں۔ مقامی اسٹارٹ اپ کے بانی طفیل حسن نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت کشمیری نوجوانوں میں مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سول سوسائٹی کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر روزگار کے مواقع فراہمی اور مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو کشمیری نوجوانوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا جو سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کشمیری نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی اقدامات وقت کا اہم تقاضا ہین بصورت دیگر حالات مزید خراب ہونے سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *