سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ معروف کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کے یوم شہادت پر کشمیر سنٹر لاہور کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو غیر قانونی طور پر پھانسی دیے جانے پر بھارت کی مذمت کی اور اس اقدام کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیری حریت پسندوں کو پھانسی دینے کے اپنے فیصلے میں اعتراف کیا تھا کہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ بھارتی عدالت نے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے شہداء کو غیر قانونی طور پر پھانسی دے کر ثابت کر دیا کہ بھارت کے ہاں آئین، قانون، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ مقبول بٹ اور افضل گورو تحریک آزادی کشمیر کے روشن اور جگمگاتے ستارے تھے جنہوں نے اپنے مادر وطن کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کا اعتراف کیا لیکن دوسری جانب اس نے سزائے موت بھی سنا دی۔ یہ کیسا انصاف اور کیسا قانون ہے۔مقررین نے کہا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو نے تختہ دار پر لٹک کر دنیا کو بتا دیا کہ کشمیری آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افضل گورو شہید اور مقبول بٹ شہید کے جسدخاکی کو دہلی کی تہاڑ جیل کے قبرستان سے نکال کر کشمیریوں کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ انہیں اپنی سرزمین میں دفن کر سکیں۔
احتجاجی مظاہرے سے سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی غلام عباس میر، انچارج کشمیر سنٹر انعام الحسن کاشمیری، سابق ایم پی اے فرزانہ بٹ، ممتاز لیگی رہنما بیگم صفیہ اسحاق، ممتاز عالم دین علامہ عاشق حسین، سیکرٹری کشمیر ایکشن کمیٹی فاروق آزاد، کیپٹن مشتاق، پروفیسر اسماء حسن شیخ، کشمیری رہنما نازیہ بٹ، رہنما محاذ رائے شماری آفتاب نازکی، ممتاز عالم دین علامہ مشتاق قادری، معروف دانشور نذر بھنڈر، شیخ امجد اقبال، محمود اے ترازی اور دیگر نے خطاب کیا۔
