سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسند تنظیموں تحریک وحدت اسلامی، پیروان ولایت اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے تحریک آزادی کشمیر کے معروف رہنما محمد مقبول بٹ شہید کو ان کی شہادت کی 42ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک وحدت اسلامی کے چیئرمین فیاض حسین جعفری اور پیروان ولایت کے سرپرست سید سبط شبیر قمی نے سرینگر سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ محمد مقبول بٹ نے جموں و کشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غیر قانونی قبضے کیخلاف ایک جاندار آواز بلند کی جس کی پاداش میں بھارت نے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے تختہ دار پر لٹکایا۔ انہوں نے کہا کہ سرزمین کشمیر کے اس عظیم بیٹے نے پھانسی کا پھندا چھوم لینا پسند کیا لیکن بھارتی استعمار کے آگے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے دعویدار بھارت نے شہید کی لاش ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے تہاڑ جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دی اور یوں ورثا کو ہمیشہ کیلئے ایک اور ذہنی کرب میں مبتلا کیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبول بٹ کو پھانسی دیکر یہ خیال کر بیٹھا تھا کہ اب کشمیری خوفزدہ ہو کر اس کے آگے سر تسلیم خم کر لیں گے لیکن ان کی پھانسی کے محض چند برس بعد 1989ء میں کشمیریوں نے بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد میں تیزی لائی اور یوں ہزاروں مقبول بٹ سروں پر کفن باندھ کر حق کے راستے میں کود پڑے۔
انہوں نے کہا کہ شہادتوں اور قربانیوں کا یہ لازول سفر مسلسل جاری ہے، کشمیری بھارت کے کسی بھی مکرو فریب میں آنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں اور اسکے تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دریں اثنا جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈوکیٹ ارشد اقبال نے محمد مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری کشمیری قوم کو مٹی کے اس عظیم فرزند پر فخر ہے جس نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے پھانسی کا تختہ چومنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری آزادی پسند رہنما کی شرمناک پھانسی بھارت کے نظام انصاف کے چہرے پر ایک بڑا دھبہ ہے۔ انہوں نے شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہ حق و انصاف کیلئے مقبول بٹ کی انتھک جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ترجمان نے بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب آزادی کی صبح طلوع ہو گی۔
