سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران شراب کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائٰع کے مطابق پی ڈی پی کے رہنما زہیب یوسف میر نے ایک بیان میں کہا کہ اگر کاشی اور متھورا جیسے شہروں میں نوراتری کے موقع پر اکثریت کے جذبات کا احترام کرنے کے لیے گوشت کی دکانیں بند کی جا سکتی ہیں، تو مذہبی حساسیت کے اسی اصول کو مسلم اکثریتی خطے جموں و کشمیر میں کیوں نہیں اپنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل مقامات پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں کہ اکثریتی برادری بغیر کسی تکلیف کے اپنے عقیدے پر عمل کر سکے۔ کیا ہم جموں و کشمیر میں یکساں بنیادی احترام کا مطالبہ نہیں کر سکتے؟ پی ڈی پی لیڈر نے انتظامیہ سے رمضان کے دوران سرکاری ملازمین کے کام کے اوقات کو معقول بنانے پر بھی زور دیا جس طرح بھارتی ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پہلے سے نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب حکومت ایسے اقدامات نہ صرف کر سکتی ہے بلکہ ایک سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔زہیب میر نے کہا کہ ان چھوٹی لیکن اہم تبدیلیوں کو نافذ کر کے ہم جموں و کشمیر میں شمولیت اور مساوات کی ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی کا رمضان کے مقدس مہینے میں شراب کی دکانیں بند کرنے کا مطالبہ
