سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع شوپیاں کے کئی علاقوں کے رہائشی گزشتہ کئی ہفتوں سے گندا پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے لوگوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پید اہو گیا ہے۔
میڈیاسورسز کے مطابق گاگرین، بونا بازار، نقاسی محلہ اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے گھروں کو فراہم کیا جانے والا پانی انتہائی آلودہ اور استعمال کے بالکل قابل نہیں ہے ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہمیں جو پانی فراہم کیا جاتا ہے وہ کپڑے دھونے کے لیے بھی موزوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہفتوں سے جاری ہے لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔علاقے کے لوگ کھانا پکانے اور پینے کے لیے دکانوں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیںجس سے ان پر اضافی مالی دباو پڑ رہا ہے ۔
عابد حسین نامی ایک رہائشی نے کہا کہ نلکوں سے اکثر آلودہ پانی نکلتا ہے۔ برسات کے موسم میں مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔۔ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے یرقان، اسہال اور گیسٹرو کے پھیلاو سے پریشان ہیں۔
رہائشیوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پینے کے صاف پانی کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ آلودہ پانی کے مسلسل استعمال سے علاقے میں صحت عامہ کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
