Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر : کالے قانون کے تحت بڈگام میں ایک اور کشمیری کی جائیداد ضبط

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بی جے پی کی بھارتی حکومت نے ضلع بڈگام میں ایک اورکشمیری کی جائیدادضبط کر لی ہے ۔

میڈیا سورسز کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سرینگر کے علاقے نوگام کے رہائشی تفضل حسین کی بڈگام کے علاقے ایس کے باغ میں واقع ساڑھے 11مرلہ اراضی کو ضبط کرلی ہے۔این آئی اے نے یہ جائیداد غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت ضبط کی ہے ۔بھارتی قابض حکام نے تفضل الحسین پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور آزادی پسند کارکنوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام لگایاہے ۔قابض حکام اکثر یہ دعوے کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ اور انتقامی کارروائیوں کا جواز فراہم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے راج پورہ ابہامہ میں ایک کشمیری تنویزر احمد وانی کی تین کنال سے زائد اراضی کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کر لی تھی ۔ این آئی اے نے یہ کارروائی 2020 میں تنویر کے خلاف درج ایک جھوٹے مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے کی تھی ۔

واضح رہے کہ اگست 2019میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے، بی جے پی حکومت نے سینکڑوں کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور ان کی املاک کو غیرکشمیریوں کو منتقل کرکے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *