سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کی صورتحال کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ اس طرح کی کوششوں کا مقصد بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ ترجمان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دینے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔انہوں نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے اور پولیس کی جانب سے بے گناہ کشمیریوں کے گھروں پرچھاپوں ،گرفتاریوں، ان کی زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ترجمان نے سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کو ہراساں اورگرفتار کیے جانے پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اورپولیس غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون،پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قونین کولوگوں کوہراساں کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔بیان میں بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کے اقدامات خاص طور پر اگست 2019 کے بعد دفعہ370 اور 35A کو منسوخی کی مذمت کی گئی جن کے تحت علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ہزاروں سیاسی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی کالے قوانین کے تحت گرفتاریاں علاقے کی مسلم شناخت کو تبدیل کرنے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ حریت کانفرنس نے کہاکہ بھارتی حکومت ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کا مقصد کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور ان کی شناخت، ثقافت اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے عوام اور قیادت کے درمیان اتحاد ناگزیر ہے۔ حریت کانفرنس نے کہاکہ مسئلہ جموں و کشمیر کوئی اقتصادی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس سے لاکھوں کشمیری کا مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کرے اور مسئلے کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کرے تاکہ ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کی بنیاد رکھی جاسکے۔
