Input your search keywords and press Enter.

جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینا غریب طبقے کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے: محبوبہ مفتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت غیر قانونی ادارہ قرار دینا معاشرے کے غریب اورپسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی ہے۔

میڈیا سورسز کے مطابق محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ بھارتی قابض انتظامیہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے دینی و تعلیمی اداروں پر پابندیاں عائد کررہی ہے جس سے گہرے تعصب اور بدنیتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم جامعہ سراج العلوم جیسے ادارے ان طلبا کیلئے امید کی کرن ہیں جو مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہاکہ اس ادارے نے ان طلبا ء کو معیاری تعلیم فراہم کی جو مہنگی تعلیم کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس ادارے نے ایسے ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے قوم کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ایسے اداروں کو ملک دشمن سرگرمیوں سے جوڑنا اور انہیں بغیر شواہد کے نشانہ بنانا ناانصافی اور امتیازی سلوک ہے۔انہوں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور جموں و کشمیر کی شناخت، وقار اور اداروں پر ہونے والے حملوں میں معاون کا کردار ادا کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی، مذہبی اور فلاحی اداروں کے خلاف کارروائیاں کشمیری عوام میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *