سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے قصبہ ڈوڈہ میںہزاروں لوگوں نے قابض حکام کی طرف سے عائد سخت پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حال ہی میں رہاہونے والے رکن اسمبلی معراج ملک کا شاندار استقبال کیاجس سے علاقے میں شہری اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی ظاہر ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود معراج ملک کے استقبال کے لیے مردوں، خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔عینی شاہدین نے بتایا کہ وادی چناب کے مختلف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں نکلے جنہوں نے ایک بڑے جلوس کی شکل اختیارکی۔ ڈوڈہ کی طرف جانے والے راستوں پر لوگوں نے شرکاءکو پانی اور خوراک پیش کیا۔ لوگوں کی بڑے پیمانے پر شرکت بلاجواز پابندیوں اور سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے کالے قوانین کے بار بار استعمال کے خلاف عوامی غم و غصے کی عکاسی ہے۔ قابض حکام سخت انتباہات کے باوجود لوگوں کو جلسے میں شرکت سے روکنے میں ناکام رہے۔ قابض حکام نے علاقے میں کالے قانون بھارتیہ نیا ئے سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت سخت پابندیاں عائد کردی تھیں اورڈوڈہ کے گھنٹہ گھرچوک، ڈیسا روڈ، اکرم آباد اور سپورٹس اسٹیڈیم سمیت مختلف علاقوں میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی۔معراج ملک کو قابض حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر حکام نے 8 ستمبر 2025 کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کیاتھا۔
