Input your search keywords and press Enter.

بی جے پی حکومت اسلامی اداروں کو نشانہ بنا کر مقبوضہ جموں وکشمیرکی شناخت مٹا رہی ہے: محبوبہ مفتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اور نیشنل کانفرنس کی ریاستی حکومت علاقے کی منفرد شناخت کو مٹانے کے لیے اسلامی اداروں اور مذہبی علامتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

میڈیا سورسز کے مطابق محبوبہ مفتی نے گاندربل میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حکام نے پہلے مدینةالعلوم کو بند کر دیا جہاں طلباء کو عربی اور دینی علوم پڑھائے جاتے تھے اور اب وہ سراج العلوم کے پیچھے پڑے ہیں جس میں دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں بی جے پی اور سرینگر میں این سی حکومت مخصوص ایجنڈے کے تحت ان اداروں کو بند کر رہی ہیں،یہ ہماری شناخت پر حملہ ہے۔ پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ محکمہ مال میں تقرریوں کے لیے اردو کی مہارت کو ہٹانا جموں و کشمیر کی منفرد شناخت کو کمزور کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس دعوے پر کہ اردو کو بھرتی کے قوانین سے نہیں ہٹایا گیا ہے، محبوبہ مفتی نے کہاکہ حکومت کا سربراہ جھوٹ بول رہا ہے۔ 2009 کا ایک حکم نامہ ہے جس میں محکمہ مال میں بھرتی کے لیے اردو کا علم لازمی قرار دیا گیا تھا۔اس کے بعد عمر عبداللہ کی سربراہی میں محکمہ مال کی طرف سے 2026 کا حکم جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صرف گریجویٹ ہونا ضروری ہے، اردو کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر عمر عبداللہ جھوٹ بول رہے ہیں تو میں کیا کر سکتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جموں اور کشمیر میں روزگار کے محدود مواقع ہیں اور کان کنی مقامی لوگوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ تھی لیکن اب ٹھیکے باہر کے لوگوں کو دیے گئے ہیں،مقامی نوجوان کیا کریں گے؟ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو نوکری خریدنے کے لیے قیمتی چیزیں بیچنی پڑتی ہیں، یہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کا طرز عمل رہا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *