سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کو ان کی پانچویں برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ محمد اشرف صحرائی مزاحمت کی علامت اور مجسم قربانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اشرف صحرائی کی زندگی، قربانیاں اور جدوجہد کشمیر کی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنا اور ان کے مشن کو پورا کرنا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ محمد اشرف صحرائی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی کشمیر کے لیے وقف کر دی اور ایک عظیم مقصد کے لیے اپنی جان اور اپنے پیارے بیٹے سمیت سب کچھ قربان کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ محمد اشرف صحرائی کو کشمیریوں کے بنیادی حقوق مانگنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، برسوں تک نظربند رکھا گیا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ ثابت قدم رہے اور ظالم بھارت کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔ ان کی موت ایک حراستی قتل ہے کیونکہ انہیں بغیر کسی طبی امداد کے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کی شہادت ہوئی۔بیان میں کہا گیا تحریک آزادی کشمیر کے قائد سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ اور دیگر کی دوران حراست شہادتیں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی روشن مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں حریت رہنماﺅں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو مار سکتا ہے لیکن ان کے جذبہ آزادی کو شکست نہیں دے سکتا۔ کشمیری اپنے شہید قائد کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہیںاور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ شہدائے کشمیر کا مشن ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ شہداء ہمارے ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے بہتر کل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور کشمیری ان کے لہو اور عظیم قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہوگی اور ان کی عظیم قربانیاں رنگ لائیں گی اور وہ بھارت کی غلامی سے نجات حاصل کریں گے۔
محمد اشرف صحرائی کو 12 جولائی 2020 کو سرینگر سے گرفتار کر کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی ادھم پور جیل میں نظر بند کیا گیا۔ جیل میں ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ 4 مئی 2021 کو بالآخر انہیں جموں کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں اگلے دن اس کی موت ہوگئی۔ محمد اشرف صحرائی متعدد عارضوں میں مبتلا تھے اور قید کے دوران انہیں کوئی علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے اہلخانہ کو بھی ان کی صحت کی حالت سے لاعلم رکھا گیا۔
