سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام کی طرف سے عیدالاضحی سے قبل مویشیوں کی بین الاضلاع نقل و حمل پر پابندی سے مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جو اس اقدام کو اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت اور عیدکے موقع پر مشکلات پیدا کرنے کی کوشش قراردیتے ہیں۔
میڈیا سورسز کے مطابق جموں کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راکیش منہاس نے پیشگی سرکاری اجازت کے بغیر گائے، بھینس، بیل اور بچھڑے سمیت جانوروں کی ضلع جموں سے دوسرے اضلاع میں نقل و حمل پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔یہ پابندی ایک ایسے وقت میں عائد کی گئیہے جب پورے علاقے میں عیدالاضحی کی تیاریاں شروع ہو رہی ہیں اوراس اقدام سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مسلمانوں میں تہوار سے منسلک مذہبی رسومات پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مویشیوں کی تجارت اور عیدالاضحی کے دوران قربانی سے وابستہ لوگوں کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔سیاسی مبصرین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ یہ حکمنامہ بی جے پی کی قیادت میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں انتظامی مداخلت کے بڑھتے ہوئے رحجان کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نےکہاکہ اس طرح کی پابندیاں اکثر جان بوجھ کرلگائی جاتی ہیں جن سے مویشیوں کی تجارت اور اس سے متعلقہ کاروبار پر انحصار کرنے والے لوگوں میں خوف، غیر یقینی اور معاشی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
