سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ بھارت علاقے میںاختلاف رائے ، انصاف اور آزادی کے مطالبے کو دبانے کے لئے منظم طریقے سے ظلم وجبر کے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انہوںنے کہا کہ من مانی گرفتاریوں، چھاپوں،نگرانی اور ہراساں کرنے سے مقبوضہ جموں کشمیرمیں جمہوریت کے لئے گنجائش سکڑ تی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی،انسانی حقوق کے کارکن اور عام شہری آزادی اور احتساب کے مطالبے کی قیمت چکا رہے ہیں۔ سول سوسائٹی ارکان نے کہاکہ اختلاف رائے کو جرم بنانے سے اپنے وقار اور حق خودارادیت کی کشمیریوں کی جائز خواہشات کو دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت علاقے میں کالے قوانین کے نفاذ، بڑے پیمانے پر نگرانی اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے خوف ودہشت اور خاموشی مسلط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اختلاف رائے کو دبانا امن نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق سے انکار ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی خاموشی ترک کرے کیونکہ خطے میں جمہوری آزادیوں کو مسلسل ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم وجبر، سنسر شپ اور اختلاف رائے کو دبانے سے کشمیر میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہاکہ کشمیریوں کی آواز کودھمکیوں اور ظلم وجبر کے ذریعے خاموش کرانے کے بجائے انہیں سنا جانا چاہیے۔
