سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے مسماری کی مہم تیز کرتے ہوئے جموں کے علاقے سدھرا میں انسداد تجاوزات مہم کی آڑ میں گجر اور بکروال خاندانوں کے کم از کم 20 گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔
میڈیا سورسز کے مطابق مسمار کی گئی تعمیرات میں گجر کوٹھے اور عارضی جھونپڑیاں شامل ہیں جن میں خانہ بدوش قبائلی خاندان آباد ہیں جو کئی دہائیوں سے علاقے میں رہتے اور اپنے مویشی چراتے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اس مہم سے پہلے ہی پسماندہ قبائلی برادریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ بڑھ گیاہے جو اپنی بقا کے لیے مویشی پالتے ہیں اوراکثر ایک علاقے سے دوسرے کی طرف ہجرت کرتے رہتے ہیں۔محکمہ جنگلات کے اس اقدام سے سخت سیاسی اور عوامی ردعمل سامنے آیاہے۔سیاسی رہنماوں نے اس اقدام کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی میاں الطاف احمد نے مسماری مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قبائلی برادری پہلے ہی بار بار بے دخلی اور مسماری کے واقعات کی وجہ سے خوف کے عالم میں زندگی بسر کر رہی ہے اور تازہ ترین کارروائی نے خانہ بدوش آبادی میں صدمے کی لہر دوڑائی ہے۔میاں الطاف نے کہا کہ متاثرہ خاندان کئی نسلوں سے علاقے میں مقیم ہیں اور اپنی روزی روٹی کے لیے چراگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ اور محکمہ جنگلات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی آبادی کی تاریخی موجودگی اور حقوق کی تصدیق کیے بغیر کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے، واقعے کی تحقیقات کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور آبادکاری کو یقینی بنایا جائے۔
دریں اثنا، سی پی آئی-ایم لیڈر اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھی مسماری مہم پر تنقید کرتے ہوئے اسے بلاجواز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گجر اور بکروال خاندان پہلے ہی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے ان کی مشکلات اوراحساس عدم تحفظ بڑھ گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ متاثرہ خاندان ان علاقوں میں برسوں سے مقیم ہیں۔ انہوں نے اس مہم کو فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کیا اور بے گھر خاندانوں کے لیے امدادی اقدامات پر زور دیا۔
