سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں حکام نے جموں میں 30 سے زائد تعمیرات کو مسمار کر کے لوگو ں کو انکے ذریعہ معاش سے محروم کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسماری کی مہم آج صبح جموں میں وشنوی دھام کے پیچھے اور جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب کی گئی۔ حکام نے تقریباً نصف ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے 30 سے زائد ڈھانچے کو منہدم کر دیا، جن میں سڑک کنارے موجود کریانے کی دکانیں شامل ہیں۔ مسماری کی اس کارروائی سے کئی خاندان اپنے ذریعہ معاش سے محروم ہو گئے ہیں۔
مقبوضہ علاقے میں کشمیریوںکو مختلف حیلے بہانوں سے روزی روٹی کے ذرائع سے محروم کرنا بھارتی انتظامیہ کا معمول بن چکا ہے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوںکو معاشی طور پر مفلوک الحال اور انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیرا ہے ۔ بھارتی حکومت کشمیریوںکو گھروں ، دکانوں ، زمینوں اور دیگر جائیدادوں سے محروم کر کے علاقے میں اپنے ہندو تو ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ کشمیریوں سے ہڑپ کی جانے والی جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندو ﺅںکو دیکر علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا گھناﺅنا کھیل کھیل رہی ہے۔
