سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت میں نفرت انگیز تقاریر پر مسلسل خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے صرف ان قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو معاشرے کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس سے بی جے پی کے ” ترقی یافتہ بھارت“ بیانیے کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نفرت انگیز تقاریر کو اس حد تک معمول بنایا گیا ہے کہ نوزائیدہ مسلمان بچوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے گھروں اور مساجد کو بغیر کسی رکاوٹ کے مسمار کیا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو دیوارکے ساتھ لگایاجاتا ہے۔انہوں نے ہندو رکشا دل کے صدر للت شرما کی طرف سے مسلمان خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی بیان بازی پر مسلسل خاموشی سے صرف ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے لوگوں سے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ان کا بیان بی جے پی کے زیر اقتدار مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور ان کی املاک کو مسلسل مسمارکرنے کے بعدسامنے آیا ہے۔
