سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سرپرست اعلی قاضی عبدالقدیر خاموش، صدر ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الہی ظہیر، چئیرمین علامہ طارق محمود یزدانی، ناظم اعلی حافظ ذاکر الرحمن صدیقی، ایڈیشنل ناظم رانا ڈاکٹر حبیب الرحمن ضیاء، نائب صدر حافظ عبد الباسط ڈار، شیخ حمزہ فیاض، مولانا نعیم الرحمن شیخوپوری صدر جمعیت اہلحدیث پنجاب، سیکریٹری جنرل پنجاب مولانا عبد الطیف مدنی سمیت دیگر قائدین نے کہا ہے کہ ملک اسوقت سیاسی کشیدگی، معاشی مشکلات اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے ریاست، وزیراعظم پاکستان اور انکی ٹیم کو مؤثر ثالثی اور مفاہمتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صدر ڈاکٹر علامہ حافظ ہشام الہی ظہیر نے کہا کہ آزاد کشمیر سمیت پورے پاکستان میں سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات کو مکالمے، برداشت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ سیاسی کشیدگی کسی بھی صورت ریاستی اور قومی مفادات کے حق میں نہیں۔ تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے باہمی احترام اور برداشت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔قائدین نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی اور انتظامی معاملات ہوں یا پاکستان کے دیگر حصوں میں سیاسی تناؤ، ان تمام مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور قومی اتفاق رائے میں پوشیدہ ہے۔ ریاست،وزیراعظم پاکستان انکی ٹیم نے جسطرح ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کردار کی عمدہ مثال قائم کی ہے ایسے ہی وفاق اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
صدر و چئیرمین جمعیت اہلحدیث پاکستان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت داخلی استحکام، معاشی بحالی، قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتحاد اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔جمعیت اہلحدیث پاکستان کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک میں امن، استحکام، آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
