سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہاں ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف حکومت کرنا کافی نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل اور حالات کو بہتر بنانا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آزاد کشمیر بلانا دراصل پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی خود آزاد کشمیر کے انتخابات ملتوی کرانا چاہتی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور اگرچہ لاکھ مرتبہ معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی فرد کی ذات نہیں بلکہ ریاست اور اس کی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والوں کی اہمیت ہوتی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم سے تنگ آ کر مہاجرین نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی سخت حالات کے باوجود پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے جو بات کی، وہ درست تھی اور وہ آج بھی اپنے بیان پر قائم ہیں، ان کے بقول معذرت کا مطالبہ بے جا ہے کیونکہ ان کا مؤقف حقائق پر مبنی ہے۔
آزاد کشمیر میں حالات کی ذمہ داری پیپلزپارٹی پر عائد ہوتی ہے، خواجہ آصف
