سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں منگل کو ‘آپریشن شیرووالی’ کے نام سے جاری بڑے پیمانے پر تلاشی اور محاصرے کی پرتشددکارروائی 39 ویں دن بھی جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق، بھارتی فوج، پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس، ایلیٹ کمانڈوز اور پولیس مغلان اور منجاکوٹے علاقوں کے جنگلاتی علاقے میں وسیع تلاشی کارروائیاں کر رہے ہیں۔قریبی دیہات کے رہائشیوں کو جنگل کے اندر سے بھارتی فوجوں کی طرف سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ بھارتی فوجوں نے علاقے میں متعدد قدرتی غاروں کی بھی تلاشی لی، تاہم اب تک کوئی چیز نہیں ملی۔ پیر پنجال خطے کے راجوری اور پونچھ کے جنگلات میں متعدد قدرتی غاریں موجود ہیں۔وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے حال ہی میں انسداد شورش فورس(رومیو)کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ بھارتی فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی نے بھی راجوری اور پونچھ کا دورہ کیا اور آپریشنز میں شدت لانے کی ہدایت دی۔ یہ علاقہ مکمل طور پر بھارتی فوج کے گھیرے میں ہے اور میڈیا کی رسائی ممنوع ہے، جبکہ مقامی افراد سے ان کے گھروں کے اندر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
