سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سری نگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے کشمیر یونیورسٹی سے کشمیر کی تاریخ اور شناخت سے متعلق کتابوں کو ہٹائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے۔
ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں روح اللہ مہدی نے کہا کہ علمی اداروں کو تاریخ اور نظریات کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ علم تک رسائی کو محدود کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر یونیورسٹی سے کشمیر کی تاریخ اور شناخت سے متعلق کتابوں کو ہٹائے جانے اور تعلیمی اداروں کی جاری آڈٹ کی خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔ لائبریریاں علم کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی ہیں، سیاسی بیانیے کو بڑھانے کے لیے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کتابیں ہٹانے سے تاریخی حقائق نہیں بدل سکتے۔ایک معاشرہ جو نظریات سے ڈرتا ہے، بالآخر سچائی سے ڈرتا ہے۔ علمی آزادی اور تاریخ سے استفادہ کرنےکا حق کبھی بھی نظریاتی کنٹرول کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔روح اللہ مہدی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہےجب نئی دہلی کی طرف سے مقرر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مبینہ طور پر آزادی سے متعلق مواد پر مشتمل کتابوں اور لٹریچر کی دستیابی پر تنازعے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر بھر کے تعلیمی اداروں کے جامع آڈٹ کا حکم دیا ہے۔منوج سنہا نے قابض حکام کو ہدایت دی کہ وہ ایک ایسا طریقہ کار وضع کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسے مواد پر مشتمل کوئی کتابیں، جریدے، رسائل یا دیگر اشاعتیں مقبوضہ علاقے کی یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں اور لائبریریوں میں موجود نہ ہوں۔ناقدین نے لیفٹیننٹ گورنر کے اس اقدام کو بھارتی حکام کی جانب سے کشمیر کی سیاسی تاریخ اور شناخت کی عکاسی کرنے والے لٹریچر تک رسائی کو محدود کرکے مقبوضہ علاقے میں تعلیمی منظرنامے کو نئی شکل دینے کی ایک وسیع تر مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد ہندوتوا کے زیرِ اثر بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
