سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں محکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئرز نے حکام کی طرف سے عملے کی معطلی اور تنخواہیں روکے جانے کے خلاف13 اگست سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ایمپلائز اینڈ انجینئرز کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر سچن ٹکو نے جموں میں ایک پریس کانفرنس میں ہڑتال کا اعلان کیا اور حکام کو معطلی کے احکامات واپس لینے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ٹِکو نے کہا کہ انجینئرز اور دیگر ملازمین کو بغیر انکوائری کے معطل کر دیا گیا اور انہیں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور پولیس کے پاس ا یف آئی آرز بھی درج کرائی گئیں لیکن2024 سے اب تک خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ ملازمین کے خلاف ہی کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرمری، ریاسی، پونی، راجوری، پونچھ، کوٹرنکا، رامبن اور بانہال میں سوریہ گھر اسکیم کو کامیاب بنانے میںناکامی پر تنخواہیں روکی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 ہزار سمارٹ میٹر خراب ہوئے لیکن متعلقہ اداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ٹِکو نے کہااگر 48 گھنٹوں کے اندر معطلی کے احکامات کو واپس نہ لیاگیا تو محکمہ بجلی کے تمامملازمین 13 اگست سے ہڑتال پر جائیں گے۔
