سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھارتی بیوروکریسی اور ہندوتوابھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان کی مخالفت کے باوجودمقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ی کے بعد جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی جانب سے 25ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد پر بحث کے دوران بی جے پی ارکان نے خاص طور پر قرارداد میں اگست 2019سے قبل اور 1953سے قبل کی سیاسی و آئینی صورتحال کے حوالہ جات پرسخت اعتراض کیا۔ بی جے پی ارکان کی طرف سے احتجاجا ایوان سے واک آئوٹ کے باوجود قرارداد 28ستمبر کو منظور کرلی گئی۔
اس سے قبل چیف سیکریٹری اتل ڈلو اور قانون سیکریٹری اچل سیٹھی نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو الگ الگ خطوط میں قرارداد کو معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہونے کا جواز پیش کر کے اس پرایوان میں بحث نہ کرانے کی درخواست کی تھی ۔ اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بیوروکریسی کی جانب سے ایوان کے معاملات میں اس نوعیت کی مداخلت پر سوال اٹھایا جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں ان خطوط کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا۔
واضح رہے کہ اگست 2019میں بھارتی حکومت نے دفعہ370اور35Aکے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریز جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیاتھا۔
دفعہ 35Aکے تحت سابق ریاستی قانون ساز اسمبلی کو مستقل باشندوں اور ان کے بعض خصوصی حقوق سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل تھا۔
دسمبر 2023میں بھارتی سپریم کورٹ نے دفعہ 370کی بحالی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران مودی حکومت کے 2019کے غیر آئینی اقدامات کو برقرار رکھا۔ تاہم ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ اس کے بعد بھی جموں و کشمیر کی سیاست میں موجود رہا ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد میں 1953سے قبل کی سیاسی و آئینی صورتحال کے حوالہ جات نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ قانونی اور سیاسی حلقوں میں ان حوالوں کو جموں و کشمیر کے سابق آئینی انتظام کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، جبکہ بی جے پی نے ان پر سخت اعتراض کیا ہے۔
کشمیری سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ محض ریاستی حیثیت کی بحالی کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کا مکمل احاطہ نہیں کرتی اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دریں اثنا، مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوںکی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے بھارتی قابض انتظامیہ اورافواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں، قتل عام ، املاک کی ضبطی، گرفتاریوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات مسلسل جاری ہے ۔
بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے کشمیریوں کی املاک اور جائیدادوں کو ضبط اور ان کی ملازمتوں سے برطرفی کا سلسلہ جاری ہے۔قانون ساز اسمبلی میں قراردادکی منظوری نے ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی اور خطے کے سیاسی مستقبل سے متعلق اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
