Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر: قابض انتظامیہ نے بیوروکریٹس کے ذریعے ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد روکنے کی کوشش کی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر):غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک غیر معمولی پیش رفت میں چیف سیکریٹری اتل ڈلو اور سیکریٹری قانون اچل سیٹھی نے قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ کو الگ الگ خطوط میںوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو عدالت میں زیرِ سماعت معاملے کا جواز بنا کر روکنے کی درخواست کی تھی۔

یہ خطوط 25 ستمبر کو عمر عبداللہ کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے اور ایوان میںبحث کے لیے منظوری کے تین روز بعد ارسال کیے گئے۔ بیوروکریٹس نے خطوط میں موقف اختیار کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے اسمبلی سیکریٹریٹ قرارداد کو ایوان میں زیر بحث نہ لائے۔

اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بیوروکریسی کی اس مداخلت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قابض حکام کی طرف سے اس طرح اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط لکھ کر ایوان کی کارروائی روکنے کی کوشش کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بیوروکریسی نے متعلقہ وزیر کی منظوری کے بغیر، ایوان کی کارروائی روکنے کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط لکھا ہے ۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جن کے پاس وزیر قانون کا قلمدان بھی ہے ، اسمبلی میں کہا کہ انہیں بیوروکریٹس کے خطوط کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا اور اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد ہی انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے بارے میں بیوروکریسی نے کس کی ہدایت پر قرارداد پر کارروائی روکنے کیلئے اسمبلی اسپیکر سے رابطہ کیا ۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کو علم میں لائے بغیر سرکاری افسران ان کی پیش کردہ قرارداد کے خلاف رائے کیسے دے سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے جموں و کشمیر کی موجودہ یونین ٹیریٹری کی حیثیت کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی بھی اجاگر ہوتی ہے۔

یہ تنازع جموںو کشمیر اسمبلی میں مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد پر بحث کے دوران پیش آیا ۔ بعد ازاں 28ستمبر کواسمبلی نے قرارداد منظور کی تاہم ہندتوابھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے ایوان سے احتجاجاواک آئوٹ کیا۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی اگست 2019سے قبل اور 1953سے قبل کی صورتحال کے حوالوں کی مخالفت کی تھی۔

اس پیش رفت نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت اور انتظامی مشینری کے درمیان جاری اختلافات کومزید نمایاں کردیا ہے، مقبوضہ علاقے کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کشمیری عوام کاایک اہم سیاسی مطالبہ ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مکمل ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کے وسیع تر تناظر میں 1953سے قبل کی آئینی و سیاسی صورتحال کے حوالوں نے نئی دہلی میں تشویش پیدا کی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان حوالوں پر شدید اعتراضات کیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سینئر بیوروکریٹس کی مداخلت کو اس اہم قرارداد کو روکنے کی ایک دانستہ کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو جموں و کشمیر کی 1953 سے قبل کی سیاسی و آئینی حیثیت سے متعلق معاملات کواجاگر کرتی ہے۔

یہ تنازع خطے کی موجودہ یونین ٹیریٹری حیثیت اور اس سے جڑے سیاسی و آئینی اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *