Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکے مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاںجاری ہیں اور پورے مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں اور نگرانی کے اقدامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

بھارتی فوج کی 156ٹیریٹوریل آرمی اور 37راشٹریہ رائفلزکے اہلکاروں نے ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کے علاقے سلانی اور قصبہ لاری گائوں کے قریب محاصرے اور تلاشی کی کاروائی شروع کی ۔

بھارتی فورسز نے سلانی میں ایک ٹھکانے کا سراغ لگانے اورمشتبہ آئی ای ڈیزاور دیگر دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ادھر ضلع راجوری میں کالاکوٹ علاقے کے ککورا اور مہری میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سوپور اور ہندواڑہ میں بھی بھارتی فورسز نے ایسی کارروائیاںکیں ۔

ان مسلسل کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، تلاشیوں اور پابندیوں سے مقامی آبادی میں شدید خوف و دہشت اور آزادانہ نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران علاقوں کا محاصرہ، رہائشی مکانات کی تلاشی اور شہریوں سے پوچھ گچھ سے معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔

مبصرین کے مطابق، بھارتی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور بار بار کی کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ علاقے پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو طول دینا ہے۔ تلاشیوں، دھمکیوں اور پابندیوں سے عوامی ناراضگی بڑھ سکتی ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کو آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت انسانی حقوق کی پامالیوں پر مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان قوانین کے تحت تلاشیوں، چھاپوں، گرفتاریوں اور حراست کے دوران جوابدہی کے فقدان پرسخت تشویش ظاہر کی ہے۔ناقدین کے مطابق ان قوانین کا مسلسل استعمال شہری آزادیوں کو محدود اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس کو بڑھا سکتا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *