سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر):غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں اور دیگر علاقوں میں آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں دس کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے شوپیاں، پلوامہ اور کٹھوعہ اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار نوجوانوں میں اویس شفیع نائیکو، تجمل احمد شاہ، معیز اقبال، عماد یوسف گنائی، ثاقب ظہور وانی، لیاقت نذیر لون، عامر احمد گنائی، فردوس ٹھوکر، محمد حنیف اور کاجو شامل ہیں۔
بھارتی پولیس نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ یہ گرفتاریاں عسکریت پسند سرگرمیوں سے منسلک مالی نیٹ ورکس کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئیں۔
پولیس کے مطابق تفتیش کاروں نے ادائیگی کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جانے والی مشتبہ آن لائن لین دین کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے مالی رقوم کی منتقلی کے متعدد مراحل کا بھی سراغ لگایا۔ پولیس نے دعوی کیا کہ ان رقوم سے اسمارٹ فون خریدے جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق، مزید مالی روابط کی نشاندہی اور دوسرے افراد کے مبینہ کردار کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ قابض حکام نے مشتبہ نیٹ ورک کے وسیع دائرہ کار کا پتا لگانے اور مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔مقبوضہ علاقے میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی مسلسل گرفتاریاں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں، گھروں پر چھاپے اور حراستیں بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے کریک ڈائون کی عکاسی کرتی ہیں۔کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں نے کشمیریوں میں خوف اور دہشت کی فضا پیدا کر دی ہے۔
کشمیری عوام ان اقدامات کو سیاسی اختلاف دبانے، تحریکِ آزادی کو کمزور کرنے اور بھارتی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان آوازوں میں کشمیری شناخت اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
19جون 2018کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ آیا۔ بی جے پی نے اس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت سے کی حمایت ختم کر دی تھی ۔ اس کے نتیجے میں محبوبہ مفتی مستعفی ہو گئیں اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔بعدازاں5اگست 2019کو بی جے پی کی بھارتی حکومت نے دفعہ 370منسوخ کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ دفعہ35A بھی ختم کر دی گئی۔ جموں وکشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ اقدام آر ایس ایس اور بی جے پی کے دیرینہ نظریاتی ایجنڈے کی تکمیل قرار دیا گیا۔
اس کے بعد سے بھارتی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں مقبوضہ علاقے کے سیاسی، انتظامی اور سکیورٹی معاملات پر کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ کالے قوانین کا مسلسل استعمال، گرفتاریاں، چھاپے اور پابندیاں شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور آزادی پسند قیادت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ کشمیر کے پائیداراور منصفانہ حل کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیتے ہیں۔ ان قراردادوں میں کشمیریوں سے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کاوعدہ کیاگیاتھا، تا کہ وہ حقِ خودارادیت کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فورسز کی طرف سے 10 کشمیری نوجوان گرفتار
