سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظ عمر فاروق کو آج ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا گیا جس کے باعث وہ زونی مر سرینگر میںمسجد محبوب العالم ؒ میں ایک طے شدہ اجتماع سے خطاب نہ کر سکے۔
ذرائع کے مطابق میرواعظ عمرفاروق نے سماجی رابطے کی ویٹ سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میںاس پابندی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر مجھے خانہ نظر بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں میں مسجد محبوب العالم ؒ میں اجتماع سے خطاب کرنے سے محروم رہا۔
انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو جامع مسجد سرینگر میں جموں و کشمیر کی صورتِ حال سے متعلق حال ہی میں شائع شدہ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ کا حوالہ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”بظاہر تلخ حقائق کو سامنے لانا اور اپنے عوام کے مستقبل، جموں و کشمیر اور پورے خطے میں حقیقی اور پائیدار امن کے لیے فکر مندی کے جذبے سے اس رپورٹ کی سفارشات کی تائید کرنا حکمران طبقے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ بہرحال، ایسا ہی سہی!“
واضح رہے کہ میرواعظ نے گزشتہ جمعہ کو تاریخی جامع مسجد سرینگر میں اپنے خطاب کے دوران انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ کے اہم نکات کو اجاگر کرتے ہوئے طویل نظربندیوں، سیاسی قیدیوں کی مسلسل اسیری، شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں اور بامعنی سیاسی مذاکرات و مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
میرواعظ عمرفاروق نے طے شدہ مذہبی اجتماع میں شرکت کے خواہشمند عقیدت مندوں کی مایوسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مجھے اس بات کا بے حد افسوس ہے کہ جو لوگ اس دینی اور روحانی طور پر ایمان افروز مجلسِ وعظ میں شرکت کے منتظر تھے، انہیں ایک بار پھر شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
