Input your search keywords and press Enter.

کشمیرمیں انسانیت کے خلاف وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے اقوام متحددہ دیرینہ تنازعات کے حل میں مسلسل ناکام ہے ، سردار مسعود خان

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (اپلندری): آزادکشمیر سابق صدر اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے فلسطین اور بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف وحشیانہ مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔جنہیں رکوانے میں اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتیں مسلسل ناکام ہیں۔
سردار مسعود خان نے کیڈیٹ کالج پالندری میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی نظام نسل کشی، قبضے اور ظلم پر خاموش رہا تو اس کی ساکھ باقی نہیں رہے گی۔ پاکستان کو عالمی امن، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی فکری و سفارتی قوت کو ازسرنو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امن، نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور ترقی کے اصولوں پرعمل درآمد کیلئے قائم کیاگیاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اقوام متحدہ غزہ میں قتل عام اور کشمیر پربھارت کے ناجائز قبضے کو ختم کرانے میں ناکام اور بے بس دکھائی دیتا ہے کیونکہ طاقت چند ممالک کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔کشمیر کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے 19جولائی 1947کو قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کر کے اپنی قسمت پاکستان کے ساتھ وابستہ کر لی تھی ۔ تحریک آزادی بیرونی نہیں بلکہ اہل کشمیر کی اپنی جدوجہد تھی جسے ایمان اور قربانی کے جذبے سے آگے بڑھایا گیا۔ انہوں نے 1947میں جموں کے مسلمانوں کے قتل عام کو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بھارت کی موجودہ آبادیاتی تبدیلی کی پالیسی اسی سانحے کی یاد دلاتی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات، بالخصوص دفعہ370اور 35Aکی منسوخی کے بعد، پاکستان نے یہ مسئلہ تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا ہے۔ پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام ہی بین الاقوامی قانون اور حقِ خود ارادیت کے اصولوں پر قائم ہیں، جبکہ بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔سردار مسعود خان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کے علمبردار بنیں اور اپنی اخلاقی بصیرت کو سٹریٹیجک سوچ کے ساتھ جوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک بار پھر دنیا کے دارالحکومتوں میں عزت و احترام کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے اور یہ رجحان برقرار رکھنا نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *