سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر): غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سیاسی اختلافات علاقے کے مستقبل کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، مختلف جماعتیں کئی مطالبات پر متفق ہیں تاہم قیادت اور حکمت عملی کے معاملے پر ان کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق گریٹر کشمیر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کی اپیل دہرائی ہے۔ تاہم ان کی اس اپیل نے علاقائی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔
مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے پر محبوبہ مفتی نے حال ہی میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے مستقبل پر بامعنی اور مستقل مذاکرات کے لیے مشترکہ طور پر نئی دہلی سے رجوع کریں۔جون میں انہوں نے وزیر اعلی عمر عبداللہ، بی جے پی کے قانون ساز پارٹی کے رہنما سنیل شرما اور کانگریس رہنما طارق حمید قرہ کو خط لکھا تھا۔ ان کی یہ کوشش لداخ کی لہہ اپیکس باڈی(ایل اے بی)، کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے)اور بھارتی حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد سامنے آئی تھی۔
مذاکرات کے ذریعے لداخ میں اتفاقِ رائے کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ کی دونوں تنظیموں نے مشترکہ موقف اختیار کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں نے مشترکہ مقاصد کو تسلیم کیا اور غلط فہمیوں کو دور کیا۔کربلائی نے کہا کہ دونوں تنظیمیں چار بنیادی مطالبات پر متفق ہوئیں۔ ان میں ریاستی حیثیت کی بحالی، چھٹے شیڈول میں شمولیت، بھرتیاں اور ریزرویشن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ لداخ ریزرویشن اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹس سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔ دیگر مطالبات میں لہہ اور کرگل کے لیے اضافی پارلیمانی نمائندگی شامل تھی۔ان کے مطابق اختلافات پر مشترکہ کور کمیٹی کے ذریعے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں تنظیموں نے گزشتہ چھ برس کے دوران باہمی رابطہ برقرار رکھا۔
جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے تقریبا سات برس بعد بھی سیاسی جماعتوں کے مطالبات مشترک ہیں۔ ان میں ریاستی حیثیت اور جمہوری حقوق کی بحالی شامل ہیں۔ جماعتیں زیادہ سیاسی اختیارات اور معاشی ترقی بھی چاہتی ہیں۔تاہم قیادت اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ لداخ کی مثال اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں درپیش مشکلات کو نمایاں کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے درمیان مربوط اور مشترکہ موقف تاحال قائم نہیں ہو سکا۔
