سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (لاہور):معروف ماہر قانون، دانشور اور انسداد دہشت گردی عدالت کے سابق جج بختیار علی سیال ایڈووکیٹ نے تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر اور پاکستان یک جان دوقالب ہیں۔
بختیار علی سیال نے کشمیر سنٹر لاہور کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان موجودبندھن کبھی ٹوٹ نہیں سکتا، پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوںنے سینٹر کے انچارج انعام الحسن سے ملاقات کی، اس موقع پر ممتاز دانشور اور ادیب نذر بھنڈر بھی موجود تھے۔بختیار علی سیال نے آزاد کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت کی پراکسی جنگ بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی جس کا مقصدمقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ کو دہرایا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بختیارعلی سیال نے کہا کہ کشمیری پاکستان کو مقدس سمجھتے ہیں اور ان کی آخری اور واحد منزل پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا واحد قابل عمل حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے میں مضمر ہے۔ انہوں نے غیر مقامی ہندئوں کو آباد کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی بھارت کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔بختیار علی سیال نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اپنی آواز زیادہ موثر اندازسے بلند کرے۔کشمیر سنٹر لاہور کے انچارج انعام الحسن نے موصوف کوسنٹر کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل مظاہروں، ریلیوں، سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ذریعے کشمیر کی حالت زار کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے میں سرگرم عمل ہے۔ یہ سیل تعلیمی اداروں میں تقریری اور کوئز مقابلوں کے ساتھ ساتھ تحقیق، تحریر اور اشاعتوں کے ذریعے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔بختیار علی سیال کو جموں و کشمیر لبریشن سیل کی طرف سے تازہ ترین اشاعت بھی پیش کی گئی۔
